تحریر: خانم پارس بتول
دینِ اسلام محض چند ظاہری احکامات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کی روحانی تربیت، اخلاقی بلندی اور عقل و شعور کی بیداری کا ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ اس طویل اور روشن سفرِ ہدایت میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے قرآنِ مجید عطا فرمایا اور ایسی ہستیوں کو بھی منتخب فرمایا جو خود مجسمِ قرآن اور سیرتِ نبویؐ کا عملی نمونہ تھیں۔
مکتبِ تشیع کے مطابق، رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد دین کی حقیقی روح، اس کی تشریح اور امت کی فکری و عملی قیادت کی ذمہ داری اہل بیتِ اطہارؑ کے سپرد کی گئی۔ اہل بیتؑ کی تعلیمات انسان کو علم و معرفت، اخلاق و تزکیۂ نفس، عدل و انصاف اور مظلوم کی حمایت کا راستہ دکھاتی ہیں۔
آئیے اس دلنشین اور پُراثر تحریر میں جانتے ہیں کہ اہل بیتؑ کی تعلیمات کیا ہیں اور معتبر کتب کے حوالے سے ان کا کیا مقام ہے۔
۱۔ قرآن اور عترت: حبلِ متین
اسلام کی بنیاد جن عظیم تعلیمات پر استوار ہے، ان میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ تاریخی ارشاد بھی شامل ہے جس میں آپؐ نے قرآنِ مجید اور اپنی عترت، یعنی اہل بیتؑ، کو امت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إنّي تارك فيكم الثقلين: كتاب الله وعترتي أهل بيتي، ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي...»
ترجمہ:
"میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت، میرے اہل بیت۔ جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے، میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔"
مکتبِ تشیع کے مطابق، قرآن اور اہل بیتؑ کو کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن صامت، یعنی خاموش قرآن ہے، جبکہ اہل بیتؑ قرآنِ ناطق، یعنی بولتا ہوا قرآن ہیں۔ انہوں نے قرآن کی تعلیمات کو نہ صرف بیان کیا بلکہ اپنی عملی زندگی کے ذریعے ان کی تفسیر بھی پیش کی۔
اسی لیے مکتبِ اہل بیتؑ میں قرآن اور عترت سے تمسک کو ہدایت کے راستے پر ثابت قدم رہنے اور گمراہی سے محفوظ رہنے کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
۲۔ علم و حکمت کا سرچشمہ: بابُ المدینۃ
اسلام نے علم حاصل کرنے پر جس قدر زور دیا ہے، اس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ مکتبِ اہل بیتؑ میں علم کو محض دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ انسان کی روحانی و فکری ترقی، اللہ کی معرفت اور حقیقت کی پہچان کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا یہ ارشاد نہج البلاغہ کی زینت ہے:
«سلوني قبل أن تفقدوني، فلو شئت لأخبرتكم ببروج السماوات...»
ترجمہ:
"مجھ سے پوچھ لو، قبل اس کے کہ تم مجھے نہ پاؤ۔ خدا کی قسم! اگر تم مجھ سے آسمان کے راستوں اور زمین کے اسرار کے بارے میں بھی پوچھو گے تو میں تمہیں بتا دوں گا۔"
حضرت علیؑ کے اس ارشاد سے ان کے عظیم علمی مقام اور معرفت کے گہرے مرتبے کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپؑ کی تعلیمات انسان کو جہالت سے نکلنے، عقل و شعور کو بروئے کار لانے اور علم و بصیرت کے ساتھ زندگی گزارنے کی دعوت دیتی ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علیؑ کے مقام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
«أنا مدينة العلم وعلي بابها»
ترجمہ:
"میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔"
اہل بیتؑ کی تعلیمات کا محور یہی ہے کہ انسان جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم و بصیرت کے نور میں زندگی بسر کرے۔
۳۔ اخلاقِ حسنہ اور تزکیۂ نفس
اہل بیتؑ کی سیرت کا سب سے روشن پہلو ان کا اعلیٰ ترین اخلاق، عفو و درگزر، ایثار اور غریبوں و محتاجوں کی خبرگیری ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا عملی نمونہ ہے کہ اسلام محض عبادت کا نام نہیں بلکہ انسان کے کردار کی تعمیر اور معاشرے میں خیر و بھلائی کے فروغ کا بھی دین ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۂ دہر، یعنی سورۂ انسان، میں اہل بیتؑ کی اسی سخاوت اور ایثار کا ذکر ملتا ہے، جب انہوں نے مسلسل تین دن روزہ رکھنے کے باوجود اپنا کھانا مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلا دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا۔ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا»
ترجمہ:
"اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں:) ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔"
یہ درس ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام محض عبادت کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت، ایثار، ہمدردی اور اخلاقِ کریمانہ کا بھی نام ہے۔ اہل بیتؑ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عبادت وہ ہے جو انسان کے کردار میں پاکیزگی اور دوسروں کے لیے خیر و رحمت پیدا کرے۔
۴۔ مظلوم کی حمایت اور عدل و انصاف کا قیام
مکتبِ اہل بیتؑ کا سب سے بڑا انقلابی پیغام ظلم کے خلاف ڈٹ جانا، مظلوم کی حمایت کرنا اور عدل و انصاف کا قیام ہے۔ واقعۂ کربلا اس نظریے کی سب سے تابناک مثال ہے۔
امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے یہ واضح کر دیا کہ دینِ محمدی کی بقا کے لیے ظلم کے سامنے جھکنا جائز نہیں۔ آپؑ نے اپنی قربانی کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن مرحلے میں حق کا ساتھ دینا ہی اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔
امام حسینؑ کا فرمان ہے:
«إنّي لا أرى الموت إلا سعادة، والحيام مع الظالمين إلا برما»
ترجمہ:
"میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ جینے کو ذلت و عار سمجھتا ہوں۔"
امام حسینؑ اور دیگر ائمہ اہل بیتؑ کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے، خواہ حالات کتنے ہی سازگار یا ناسازگار کیوں نہ ہوں۔
کربلا کا پیغام یہی ہے کہ دین کی حفاظت صرف عبادات کی ادائیگی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ظلم کے مقابلے میں حق، عدل اور انسانی عزت کا دفاع بھی ضروری ہے۔
نتیجہ
دینِ اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے اہل بیتِ اطہارؑ کی سیرت ایک ایسا چراغ ہے جو کبھی مدہم نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی قرآنِ مجید کی تعلیمات کی عملی تفسیر، سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تسلسل اور دینِ اسلام کی حقیقی روح کا روشن نمونہ ہے۔
اہل بیتؑ کی تعلیمات انسان کو علم و معرفت، اخلاق و تزکیۂ نفس، ایثار و خدمت، عدل و انصاف اور حق کی حمایت کا راستہ دکھاتی ہیں۔ ان کا دامن تھامنا، ان کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان کی سیرت پر عمل کرنا مکتبِ اہل بیتؑ کے نزدیک صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کا ذریعہ ہے۔
قرآن اور عترتِ رسولؐ سے وابستگی انسان کو ہدایت کی روشنی عطا کرتی ہے اور اسے جہالت، ظلم اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر معرفت، ایمان اور عملِ صالح کی راہ پر لے جاتی ہے۔ یہی مکتبِ اہل بیتؑ کی وہ روشن تعلیم ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے نورِ ہدایت اور چشمۂ معرفت کی حیثیت رکھتی ہے۔
حوالہ جات
۱۔ حدیثِ ثقلین: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان: «إنّي تارك فيكم الثقلين: كتاب الله وعترتي أهل بيتي، ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي...»
۲۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۷: حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا فرمان: «سلوني قبل أن تفقدوني، فلو شئت لأخبرتكم ببروج السماوات...»
۳۔ حدیثِ مدینۃ العلم: «أنا مدينة العلم وعلي بابها»
۴۔ قرآنِ مجید، سورۂ انسان، آیات ۸-۹: «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا...»
۵۔ تحف العقول، صفحہ ۲۴۵: امام حسینؑ کا فرمان: «إنّي لا أرى الموت إلا سعادة، والحيام مع الظالمين إلا برما»
آپ کا تبصرہ